Dada Abbu NY sub k Mobile 2 din Kay lie apny pass rakh lie, Bachay Samajhdaar hogae
🎆🎇🎄🎄🎄😎😅🤣😅😎🎄🎄🎄🎇🎆a
👍👍👍
ا
ایکچھوٹی سی کہانی
اکثر نعمانی صاحب پورے اہل خانہ کی میٹنگ
بلاتے رہتے تھے۔۔۔یہ زمانے سے چلا ارہا تھا۔۔کوئ اہم بات پر مشورہ ہو۔۔یا کسی خاص بات کا اعلان ۔۔یہ اسی طرح کی میٹنگ میں سب کو بتایا جاتا تھا۔۔۔اور الحمد للہ سب بیٹے بہوئں شریک بھی ہوتیں اور اخری فیصلہ قبول بھی کرتیںَ۔
اج بھی یکایک میٹنگ رکھی گئ۔
سب سوچ رہے پتہ نہیں ۔کیا بات ہوگی!
وقت مقررہ پر سب موجود ہو گیے۔
نعمانی صاحب نے بولنا شروع کیا۔۔۔
میرے بچو۔۔۔۔۔! اج تک تم لوگوں نے میری کوئ بات نہیں ٹالی۔۔۔کسی فیصلہ کو رد نہیں کیا۔امید ہے اج کے فیصلے ہر بھی تمہارا ردعمل مثبت ہی ہوگا۔حالانکہ بات بہت معمولی ہے۔
سب نے یک زبان ہو کر کہا ۔۔۔
کیوں نہیں ۔ابو اپ جو کہیں گے وہ ہم سب بالکل مانیں گے۔۔۔۔۔ہمیشہ کی طرح۔
مگر بات کیا ہے؟ وہ تو بتائں۔
بتاتے ہیں میرے بچو۔۔۔بتاتے ہیں۔پہلے ایک کام کرو ۔۔۔تم تمام کے تمام اپنا اہنا موبائل فون سوئچ اف کرکے یہاں میرے پاس رکھ دو۔۔۔
سب نے ویسا ہی کیا ۔۔۔
ماشأاللہ ۱۳ موبائل۔۔۔۔ارے واہ میرے گھر میں اتنے موبائل فون ہوتے ہیں۔۔۔
اچھا ہاں تو اب سنو۔۔۔۔۔
میں نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ سارا موبائل میں اپنے پاس رکھ لیتا ہوں ۔ایسے ہی سوئچ اف میں ہی۔اور کل نہیں پرسوں ۔۔تم تمام لوگوں کو تمہارا موبائل واپس مل جائگا۔۔۔۔اوکے۔۔۔
سب راضی ہو۔۔۔۔۔؟
ہر کسی کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو ۔۔۔۔سب خاموش اور ہکا بکا رہ گئے۔۔۔یہ کیسی شرط رکھ دی ابو نے۔۔۔
عادل نے دل ہی دل میں سوچا ۔۔۔اف میرا فیسبک ۔۔۔۔۔کسی کو واٹس اپ کی فکر لاحق ہوئ۔۔۔مگر ۔۔۔۔ کسی میں انکار کی ہمت نہیں تھی۔۔۔
بڑی کوشش کے بعد ایک بہو نے کہا۔۔۔
ضرور ابو۔۔۔کیوں نہیں۔۔۔مگر اپ تو جانتے ہیں کہ ْوہ ْ فورن میں رہتے ہیں ۔۔۔فون ایگا تو۔۔۔۔۔ کیسے۔۔۔؟
ہاں ہاں۔۔۔یہ بھی تو باہر ہی ۔۔۔۔۔۔۔انکی ہاں میں ہاں اور تینوں بہوئں بھی بولیں۔۔۔۔
ایک پوتے نے کہا ۔۔۔ابو اور وہ بڑی ددا کا فون ایگا تب۔۔۔سب موبائل تو اف رہیگا۔۔۔انکی طبیعت بھی ٹھیک نہیں چل رہی اج کل۔
ٹھیک ہے ایسا کچھ ایمرجنسی کا کال ہوگا تو ایک فون تمہاری دادی امی کا کھلا رہیگا۔۔۔اوکے۔۔پھر دو دن کی تو بات ہے۔۔۔نعمانی صاحب نے جواب دیا۔
چلو میٹنگ ختم ۔۔۔پرسوں اسی وقت سب اکر اپنا اپنا موبائل لے جانا۔۔۔اوکے بچو۔۔۔۔
سب اپنے اپنے روم میں واپس اگئے۔
ادھا گھنٹہ کسی طرح بیتا۔۔۔پھر سب کو اپنے موبائل یاد انے لگے۔نہ بہووں کو کھانا پکانے میں دل لگ رہا نہ واشنگ مشین چلانے میں عادت جو ہو گئ تھی میوزک کی ۔۔۔ بار بار اپنے اپنے شوہروں کے میسج چیک کرنے یابچوں کے فوٹوز بھیجنے کی ۔۔۔اج تو بچوں کا ہوم ورک بھی دل سے نہیں ہو رہا کیونکہ روز ہوم ورک کے بعد گیم کھیلنے کی عادت جو تھی۔
چھوٹے چھوٹے پوتے پوتیاں جب تک موبائل پر میوزک نہیں سنتے یاکچھ ویڈیو نہیں دیکھتے ۔۔۔نہ فیڈر لیتے نہ انھیں نیند اتی۔۔۔
سب بڑے کی طبیعت مضمحل تھی ،بچے اداس اور بالکل نا سمجھ بچے صرف رہ رہ کر رو رہے تھے۔۔۔۔
۱۰ بج گئے۔۔۔ایک گھنٹہ گزر گیا،،
بڑا پوتا ۔۔۔عادل۔۔۔اپنے بستر پر بیچینی سے ادھر ادھر کروٹ بدل رہا تھا۔۔۔۔ذ ہن میں دوستوں کے فیسبک کامنٹس اور مزیدار اسٹیٹس کی تصویریں گردش کر رہی تھی۔۔۔واٹس اپ پر اتنی دیر میں نا جانے کتنے میسج اگئے ہونگے۔۔۔کیئ گروپ میں ایڈ جو تھا۔۔۔ اسے کسی پل چین نہیں ا رہا تھا ۔۔۔بالکل بیکاری اور بوریت سی محسوس ہو رہی تھی۔کیا کریں ـ کیا کریں۔؟
یکایک اس کے زہن میں ایا کوئ میگزین نکالا جائے ۔۔۔اسے ہی پڑھ کے تھوڑا ٹائم پاس کیا جائے۔۔۔پورے کمرے میں ڈھونڈا کوئ ایسی کتاب نہیں ملی۔۔۔۔
نیچے ابو(دادا) کے کمرے میں گیا۔۔۔۔
ابو ابو۔۔۔کوئ میگزین ہے تو دیجئے نا۔۔۔۔
ہاں بیٹا ۔۔۔یہ لو۔۔۔ڈھیر ساری میگزین ابو نے اس کے سامنے دکھ دیا۔ بچوں کا ہلال۔۔نور۔۔بتول۔۔نیا کھلونا۔۔ننھا ساتھی۔۔اللہ کی پکار۔۔۔بچوں کی نظمیں،اصلاحی کہانیاں ،وغیرہ وغیرہ ۔۔۔عادل نے لحضہ بھر کو سوچا ۔اتنی اچھی اچھی کتابیں گھر میں موجود ہیں ۔۔۔اور ہملوگ بیکار موبائل گیم کے لئے بھایئوں سے لڑتے ہیں اور مفت میں ڈانٹ سنتے ہیں،
اس نے ایک کتاب لیا اور اپنے کمرے میں چلا گیا، کمرے میں موجود چھوٹا بھائ محفوظ بولا بھائ مجھے بھی دو نا ،میں بھی پڑھونگا۔۔۔
عادل نے جواب دیا تمکو چاہئے تو ابو کے پاس جاو وہاں بہت ہے۔۔۔محفوظ دوڑا۔۔۔اسکا دیکھا دیکھی نیر،ممتاز،صدف،بھی دوڑے۔۔۔۔۔۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے سارے بچوں کے ہاتھ میں ایک ایک کتاب اگئ۔۔۔بچے کتاب پاکر ایسے خوش تھے مانو خزانہ ہاتھ لگ گیا ہو۔۔۔۔
نعمانی صاحب کے چہرے پر ایک معنی خیز مسکراہٹ پھیل گئ ،
اوپر سے معصوم فاراب کے رونے کی مسلسل اواز ارہی تھی۔۔۔۔،وہ سونے کے لئے رو رہا تھا مگر موبائل کی عادت۔۔۔۔۔ماں بھی ٹہلا ٹہلا کر پریشان ۔۔۔۔۔
پھر اس کی ماما نے دھیرے دھیرے گنگنانا شروع کیا۔۔۔۔
سو جا میری انکھ کےتارے سو جا میرے لعل
تو سب کا دلچسپ کھلونا کیا گھر کیا ننہال
عزم و عمل تلوار ہو تیری ایماں تیری ڈھال
سو جا میری انکھ کے تارے سو جا میرے لعل
نیکی سے ہو تجھکو الفت اور بدی سی بیر
سب تیرے جینے سے خوش ہوں کیا اپنے کیا غیر
پیاری پیاری تیری انکھیں گورے گورے گال
سو جا میری انکھ کے تارے سو جا میرے لعل
معصوم بچہ ماں کی میٹھی میٹھی اواز سنتے سنتے کب خراٹے لینے لگا ماں کو پتہ بھی نہ چلا۔۔۔۔
واہ سو گیا میرا گڈا۔۔۔۔کتنی جلدی سو گیا۔۔۔اب اسے روز ایسے ہی لوری گا کر سلاونگی۔۔۔موبائل دیکھ کر سونے میں تو بہت ضد کرتا ہے اور ۔۔اور۔۔۔دیکھنے کی ضد۔
عنبریں کو ماں نے اواز دیا ۔۔۔۔بیٹا جلدی نہا دھوکر فری ہو جاو نا، دیکھو تو ٹائم کتنا ہو گیا؟
امی میں تو کب کا نہا کے ا چکی۔۔۔۔کچن میں ہوں۔امی بھی چونک گئ اج ۱۱ بجے ہی نہانا دھونا سب فنش۔۔۔۔واہ میری بچی۔۔۔انھیں یقین نہیں ہو رہا تھا۔
بڑی منجھلی سنجھلی کنجھلی اور چھوٹی بہوئں سب اپنے اپنے کام میں مصروف نظر انے لگیں۔۔۔کوئ کپڑھے کی صفائ میں کوئ کچن میں جلدی جلدی پکانے میں خود کو مشغول رکھے ہے۔۔۔ تو کوئ کمرے کے پردے بدلنے میں،،،اور ان تمام کے شوہر یعنی نعمانی صاحب کے بیٹے سب جو بیرون ملک رہتے ہیں ۔۔۔فون لگا لگا کر پریشان ہو رہے ہیں ۔۔ سب کے فون سوئچ اف ارہے تشویش بڑھنے لگی۔۔۔۔یا اللہ خیر۔۔۔۔۔اخر میں ہر کسی نے امی کو کال کیا ۔۔۔فون لگ گیا امی نے سب کو مختصراً خیریت بتایا اور ابو کا نیا تجربہ بھی ۔۔۔۔۔تب جاکے سب کو اطمنان ہوا۔۔
بارہ بجتے بجتے سارے گھر کے بڑے بچے نہا دھوکر فارغ ہو گئے۔۔۔۔
نیر کی امی نے کہا ابھی اذان میں کچھ وقت باقی ہے۔۔۔ بیٹا تھوڑی دیر قران پڑھ لو ۔۔۔دیکھو محفوظ اپنے کمرے میں قران پڑھ رہا ہے۔۔۔کتنا اچھا لگ رہا ہے۔۔۔
پھر جو بچوں میں قران پڑھنے کا مقابلہ چلا تو ایک الگ ہی فزا سی ہو گئ۔۔۔۔
نعمانی صاحب کی مسکراہٹ اور گہری ہوتی گئ۔
جب وہ ظہر کی نماز کے لئے نکلے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اج وہ اکیلے نہیں ،انکے پیچھے پانچوں پوتے بھی مسجد کو ا رہے۔۔۔۔انکا سینہ مارے خوشی کے پھول سا گیا۔۔۔۔
ایک ٹھنڈی سانس لیکر کہا۔۔۔۔۔۔
الحمد للہ ۔۔۔انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔
بچے لوگ مسجد سے لوٹے تو ماں سے کھانا مانگنے لگے۔۔۔امی نے کہا ۔۔۔بس بیٹا دو منٹ ۔۔۔اس رکوع تک پڑھنے دو۔۔۔اسکے بعد کھانا دیتی ہوں،،،،
شام کو باہر میدان میں کھیل کر ائے۔۔۔مغرب بعد سب بچوں نے اسکول کا کام کیا۔۔۔
وقت کیسے گزرتا گیا ،پتہ ہی نہیں چلا،،،وہ بھی بنا موبائل کے۔۔۔۔۔یہ تو زبردست تبدیلی تھی۔،
اج نعمانی صاحب کا گھر بدلا بدلا سا لگ رہا تھا ۔
اج بہت دنوں بعد گھر کے سارے افراد ساتھ کھانا کھانے بیٹھے۔۔۔اپس میں خوب باتیں ہوئں۔ہنسی مذاق کا دور چلا۔۔۔ سب کے چہرے خوش اور ہشاش بشاش تھے۔
اج دادی نے غورسے عادل کو دیکھا تو پتہ چلا اسکی تھوڑی تھوڑی مونچیں اگنی لگی ہیں۔
اج دادا کو پتہ چلا کہ محفوظ اب چار روٹیاں کھانے لگا۔
اج گھر کے دوسرے لوگوں کو خبر ہوئ کہ چھوٹی صائمہ کو کئ دنوں سے کان میں درد ہے۔
اج عرفان،نیر اور کوکب نے دادی سے ضد کی کہ ہمیں بھی وہ ساری کہانیاں سنائں جو بھائ جان کو سنا چکیں۔۔ یہ سنتے ہی دادی کی انکھ بھر ائ۔
اج زمانے کے بعد سارے افراد جلدی سو گئے اور تڑڑکے صبح موزن کی اواز پر نیند ٹوٹی۔۔۔کئ بچوں کو اج پتہ چلا کہ فجر کی اذان میں اصلاۃ خیر۔۔۔۔۔۔۔۔ بھی ہوتا ہے۔
اج پہلی مرتبہ دادا کے ساتھ گھر کے بچے بھی فجر کی نماز مسجد میں ادا کئے۔
اج پہلی مرتبہ بچوں کو محسوس ہوا کہ سورج اگنے سے قبل کی فزا کتنی خوشگوار اور دلکش لگتی ہے۔
اج پہلی مرتبہ بچے دادا کے ساتھ باغیچہ ہوا خوری کو گئے۔۔جہاں انہوں نے خوب مزے کیے۔
اج زمانے کے بعد گھر کی عورتوں کے دوپٹے پورے بال ڈھانپے ہوئے تھے ۔۔۔کان اور پیشانی سے ہوتے ہوئے دوپٹہ لپیٹنے کا حسن ہی الگ نظر ارہا تھا۔
اج پہلی مرتبہ بچوں کا لنچ بنانے کو بھاگم بھاگ نہیں کرنا پڑا۔۔۔کیونکہ اج بہت وقت مل گیا تھا۔۔۔سارا کام قبل از وقت ہو چکا تھا۔
نعمانی صاحب اپنے گھر کی اس بدلی ہوئ صورت دیکھ کر بہت خوش تھے۔۔۔۔۔۔۔۔انھیں ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ کہ وہ اپنی مہم میں کامیاب ہو گئے ۔۔۔۔۔ وہ خود کو جیتا ہوا محسوس کر رہے تھے،،،
انہوں نے سب کے فون ضبط کرکے انہھیں زندگی کا صحیح معنی سمجھا دیا تھا ،،،،،
موبائل فون میں جو زندگیاں الجھ کر رہ گئں تھیں انھیں واپس پٹری پر لا دیا تھا۔۔۔۔اور انہوں نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ اب دو دن نہیں بلکہ اج ہی سب کے فون واپس کر دینگے۔۔۔
ہمارے بچے سمجھدار ہو گئے ہیں ـ
🎆🎇🎄🎄🎄🎄🎄😎😅🤣😅😎🎄🎄🎇🎆
Masha Allah Behtren or Aqalmandon wale Chal Chalee
ReplyDelete